فهرس الكتاب

الصفحة 134 من 908

الدنیا والآخرۃ،والعیاذ بوجہ اللّٰہ تعالیٰ،فإن اللّٰہ تعالیٰ یقول،وھو أصدق القائلین: {مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْئٍ} وکذا قال: {وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْن} وکذا قال صلی اللّٰه علیہ وسلم: (( خُذْ مِنَ الْقُرْآنِ مَا شِئْتَ لِمَنْ شِئْتَ ) )و روایات العقوبۃ لمن تھاون بالقرآن العظیم وأساء الظن کثیرۃ جدًا'' [1]

[اللہ کی کتاب کے خواص میں تہاون اور سستی کرنے سے بچو،کیوں کہ اعتقادی تساہل و غفلت دنیا و آخرت کے خسارے کا باعث بنتاہے۔ہم اس سے اﷲ کی پناہ چاہتے ہیں۔پس یقینا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،اور وہ اصدق القائلین ہے:

{مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْئٍ} [الأنعام: ۳۸]

[ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی]

جی ہاں ! اس نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے:

{وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْن} [الأنعام: ۵۹]

[کوئی تر ہے اور نہ خشک مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے]

نیز رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:

(( خُذْ مِنَ الْقُرْآنِ مَا شِئْتَ لِمَنْ شِئْتَ ) ) [2]

[قرآن سے جو چاہو جس کے لیے چاہو لے لو]

جو قرآن عظیم کے ساتھ تہاون و سستی کا مظاہرہ کرے اور اس کے متعلق بدگمانی کا شکار ہو،اس کی سزا کے متعلق روایات بہت زیادہ ہیں ]

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا ہے:

''کل داء لہ دواء،وأنا أحسنت المداواۃ بالفاتحۃ فوجدت لھا تأثیرًا عجیبًا في الشفاء،وذٰلک أني مکثت بمکۃ مدۃ یعتریني أدواء،لا أجد لھا طبیبا ولا مداویًا،فقلت: یا نفسي! دعیني دعیني أعالج نفسي بالفاتحۃ ففعلت فأریٰ لھا تأثیرًا عجیبًا،وکنت أصف ذٰلک لمن اشتکی

[2] یہ بے اصل روایت ہے۔دیکھیں: سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ،رقم الحدیث (۵۵۷)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت