فهرس الكتاب

الصفحة 102 من 108

اسرائیلیات کے بارے میں علماء کا موقف

حضرات علماء کرام رحمہم اللہ خصوصًا مفسرین حضرات اسرائیلیات کے بارے میں تین گروہوں میں بٹ گئے ہیں:

۱: ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے بکثرت ان اسرائیلیات کو سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ ان کی رائے یہ ہے کہ جب وہ سند سے روایت کررہے ہیں تو اس ممانعت سے باہر ہوگئے جو اسرائیلیات کے متعلق ہے ۔ ان میں ابن جریر طبری رحمہ اللہ علیہ بھی ہیں۔

۲: ان میں سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اسرائیلیات کو سند کے ذکر کے بغیر ہی کثرت سے نقل کیا ہے ۔ تو ان کا حال رات کے اندہیرے میں لکڑیاں چننے والوں کی طرح رہا۔ جیساکہ امام بغوی ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ان کی تفسیر کے متعلق فرماتے ہیں:

''یہ ثعلبی کی تفسیر کا اختصار ہے ۔ لیکن اسے موضوع احادیث اور مبتدعین کی آراء سے بچالیاہے ۔ اور ثعلبی کے متعلق فرماتے ہیں: ''وہ رات کولکڑیاں جمع کرنے والا ہے 'کتب ِ تفسیر میں جو کچھ بھی پاتا ہے ' صحیح ' ضعیف اور موضوع سب کچھ نقل کرتا ہے ''۔

۳: ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے بہت کچھ نقل کیا ' اور بعض پر تعاقب بھی کیا ہے، اسے ضعیف کہا اور اس کا انکار بھی کیاہے؛ جیسے ابن کثیر رحمہ اللہ ۔

۴: ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں ان کے رد میں مبالغہ کیا ہے، اور اسرائیلیات میں سے کچھ بھی تفسیر قرآن کے طور پر نقل نہیں کیا ۔ جیسے امام رشید رضا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت