فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
تفسیر ماثور میں واقع ہونے والے اختلاف کی تین اقسام ہیں:
اوّل: لفظ میں اختلاف (معنی کے بغیر ) : اس کی آیت کے معنی میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
{ وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ } (الاسراء:۲۳)
''اور تمہارے رب نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔''
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ''قضی'' کا معنی ہے:''امر '' یعنی حکم دیا ۔ اور امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: '' اس کا معنی ہے: ''وصی'' اس کی وصیت کی ہے ۔ ربیع بن انس کہتے ہیں: '' اس کا معنی ہے: ''أوجب'' اس نے واجب کیا ہے ۔ یہ مختلف تفاسیر یا توان کا معنی ایک ہی ہے ' یا قریب المعنی ہوتی ہیں۔ اس اختلاف کی آیت کے معنی میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی۔
دوم: لفظ اور معنی میں اختلاف ' ان دونوں میں تضاد نہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں معانی کا احتمال ہوتا ہے ۔تو آیت کو ان دونوں پر محمول کیا جائے گا ' اور ان دونوں (معانی ) سے اس کی تفسیر کی جائے گی۔ اور ان دونوں کے درمیان جمع اس طرح ممکن ہے کہ ان میں سے ہر ایک قول اس تمثیل کے طور پر بیان کیاگیاہے ، جس کا تعین آیت یا اس تنوع سے ہوتا ہے۔اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَأَ الَّذِی آتَیْنَاہُ آیَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْہَا فَأَتْبَعَہُ الشَّیْطَانُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِیْنَ oوَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاہُ بِہَا وَلَـکِنَّہُ أَخْلَدَ إِلَی الأَرْضِ