فهرس الكتاب

الصفحة 27 من 108

ج: یا کوئی ایسامعاملہ پیش آجائے جس کا حکم معلوم کرنا مقصود ہو۔اس کی مثال یہ آیت ہے:

{ قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللّٰهِ وَاللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا إِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ} (المجادلہ:۱)

'' یقینًااللہ نے اس عورت کی التجا سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث کرتی اور اللہ سے شکایت کرتی تھی؛اور ا للہ آپ دونوں کی گفتگو سن رہا تھا بے شک اللہ تعالیٰ سنتا دیکھتا ہے۔''

فوائد ِ معرفت ِاسباب ِنزول :

اسباب ِ نزول کی معرفت حاصل کرنا بہت ہی اہم ہے ۔اس لیے کہ اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں سے:

[قرآن کا منزل من اللہ ہونا]

۱: یہ بیان کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے ۔ یہ اس طرح کہ بسا اوقات جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا تو آپ توقف کرتے ، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی (اور اس سوال کا جواب دیا جاتا) ۔ یا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی معاملہ مخفی ہوتا ، تو وحی نازل ہوتی جس اس کا بیان اوروضاحت ہوتی ۔

پہلی مثال: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

{وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّیْ وَمَا أُوتِیْتُم مِّن الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیْلًا}

''اور آپ سے رُوح کی بابت پوچھتے ہیں کہہ دو: وہ میرے رب کی ایک شان ہے اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے۔'' [1]

صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت ہے:

'' بیشک یہود کا ایک آدمی نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) پوچھا: اے ابو القاسم!

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت