اسرائیلیات
اسرائیلیات [1] سے مراد بنی اسرائیل یہود-یہی اکثر روایت والے ہیں- اور نصاری سے منقول خبریں ہیں ۔ ان اخبار کی تین اقسام ہیں:
پہلی قسم: وہ اخبار ہیں جنہیں اسلام نے برقرار رکھا ہو' اور ان کے سچا ہونے کی گواہی دی ہو؛ وہ حق ہیں ۔ اس کی مثال:
امام بخاری رحمہ اللہ کا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ یہ قصہ ہے کہ:
'' یہود کے علماء میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا:
''اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اپنی کتابوں میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب آسمانوں کوایک انگلی پر اور زمینوں کوایک انگلی پر کر لے گا ، درخت ایک انگلی پر ہوں گے ، پانی اور مٹی ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق ایک انگلی پر ' اور وہ کہے گا:
'' أنا الملک'' میں ہی بادشاہ ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں نظر آنے لگیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی:
{ وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالْأَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِیْنِہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ }
(الزمر:۶۷)
'' اور انہوں نے اللہ کی قدرشناسی جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی اور قیامت کے