فهرس الكتاب

الصفحة 108 من 186

دعوت کے کچھ افراد کو عجمی لباس میں ملبوس پایاتووہاں سے چلے آئے اور فرمایا: من تشبہ بقوم فھو منھم.یعنی جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہوتاہے۔ [1]

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:مسلمان کا،کافر کے لباس سے فرق اختیار کرنا ایک شرعی مطلوب ہے۔ [2]

مروذی کی روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ایک مخصوص عجمی جوتے کے بارے میں سوال کیاگیاتوآپ نےفرمایا:میں اسے نہیں پہنتا نہ کبھی پہنوں گا،محمد بن ابی حرب کی روایت میں یہ اضافہ بھی منقول ہےکہ امام احمد نے فرمایا: کیونکہ یہ عجمی لباس میں شمارہوتاہے۔ [3]

علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:عرب کامعروف لباس،عجمیوں کے لباس سے افضل ہے۔ [4]

حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اس (قولِ عمر رضی اللہ عنہ ) سےبہت سے علماء نے غیرمسلموں کے لباس کے ناپسندیدہ ہونے کی دلیل لی ہے۔

[2] اقتضاء الصراط المستقیم:۱؍۲۵۰

[3] اقتضاء الصراط المستقیم:۱؍۲۴۴

[4] فتح الباری لابن رجب:۲؍۳۹۳

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت