خلق کی عادی ہوگی تو بڑھاپے تک اسی اخلاق پر قائم رہے گی۔
میں اپنی تمام مسلمان بہنوں اوربیٹیوں کو نصیحت کرتاہوں کہ وہ غیرملکیوں کالباس یکسر ترک کردیں، وہ تو ہمارے اور ہمارے دین کے دشمن ہیں،اوراپنی بچیوں کولباسِ ساتر کا عادی بنائیں،نیز انہیں زیورِ حیاء سے آراستہ کریں؛کیونکہ حیاء ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے۔ [1]
(۱) کیاآپ بحیثیت والد ہونے کے اپنی بیٹیوں کیلئے خیرخواہ ہ یں یا بدخواہ اور دھوکہ باز؟درج ذیل حدیث پڑھ کر جواب دیجئے:
عن معقل بن یساررضی اللّٰه عنہ قال: سمعت النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم یقول:ما من عبد استرعاہ اللّٰه رعیۃ، فلم یحطھا بنصیحۃ الا لم یجد رائحۃ الجنۃ. (صحیح بخاری:۷۱۵۰) وفی روایۃ ثم لایجھد لھم وینصح الا لم یدخل معھم الجنۃ. (صحیح مسلم:۱۴۲) وفی روایۃ: مامن عبد یسترعیہ اللّٰه رعیۃ ،یموت یوم یموت وھوغاش لرعیتہ،إلا حرم اللّٰه علیہ الجنۃ. (صحیح بخاری:۷۱۵۱،صحیح مسلم:۱۴۲اور یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں)
ترجمہ:معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،فرماتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم