میں چونکہ عبایہ کے اندر چھوٹا یاباریک لباس ہے تو شرمگاہ کے کھل جانے کا امکان رہے گا اور اجنبی مرد دیکھیں گے ،یوں وہ عورت اپنی کوتاہی کی وجہ سے گنہگار ہوگی۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرمایا کرتی تھیںجب عورت کا پاؤں کھلاہوتو اس کی پنڈلی کھل سکتی ہے۔ [1]
اور جب پنڈلی کھلی ہوتوران کے کھلنے کاامکان بن سکتاہے۔
ایک لڑکی اگرگھر کے بزرگوں کی حیاء کااحترام کرتے ہوئے،یاان کے خوف کی بناء پر ان کے سامنے چھوٹایاباریک لباس پہننے سے گریز کرتی ہے،تو اللہ تعالیٰ حیاء اورخوف کا زیادہ حق رکھتاہے۔
اہلِ علم فرماتے ہیں:مرد کیلئے بلاضرورت اپناسترکھولناناجائز ہے،اگر اکیلابیٹھا ہوتو اللہ تعالیٰ شرم کئے جانے کے زیادہ لائق ہے۔
عن ابی الملیح، قال: دخل نسوۃ من أھل الشام علی عائشۃ رضی اللّٰه عنھا فقالت: ممن أنتن؟ قلن: من أھل الشام.قالت: لعلکن من الکورۃ التی تدخل نساؤھا الحمامات؟ قلن: نعم.قالت: أما إنی