الصفحة 68 من 228

مریض یا مسافر پر روزہ ضروری نہیں پھر قضاء لازم ہے۔ (البقرہ: ۱۸۴)

اسی طرح حائضہ (اور نفاس ) والی عورت بعد میں قضائی دے گی۔ (بخاری:۳۲۱، مسلم:۳۳۵)

دوران سفر روزہ رکھنا بھی جائز ہے۔ (بخاری: ۱۹۴۳، مسلم:۱۱۲۱)

جس آدمی کے ذمے روزے تھے وہ فوت ہو جائے تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے۔ (بخاری: ۱۹۵۲، مسلم: ۱۱۴۷)

روزہ باطل کرنے والے امور:

جان بوجھ کر کھانا ،پینا۔ (بخاری:۱۸۹۴)

لیکن بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (بخاری:۱۹۳۳، مسلم:۱۱۵۵)

جماع کرنا۔ (بخاری:۱۹۳۶، مسلم:۱۱۱)

اس کا کفارہ یہ ہے کہ:ایک گردن آزاد کرنا اس کی طاقت نہیں تو دو ماہ کے پے در پے روزے رکھنا اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا۔

(بخاری: ۱۹۳۶، مسلم: ۱۱۱۱)

اگر بھول کر جماع کر لیا تو ایسے شخص پر کفارہ لازم نہیں ہے۔ (مستدرک حاکم: ۱/۳۴۳۰)

جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ (أبو داود:۲۳۸۰، صححہ البانی)

حیض (اور نفاس ) کے شروع ہونے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ (بخاری:۱۹۵۱)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت