فهرس الكتاب

الصفحة 235 من 660

ہیں لیکن ان چاروں احادیث کی اسنادبالکل ضعیف اورناقابل احتجاج ہیں بلکہ ان کے موضوع ہونے کا قائل ہوا جائے تویہ مبالغہ نہیں ہوگا ذیل میں وہ احادیث بمع اسانید ذکرکرکے ان کےرواۃ کا حال بیان کیا جاتا ہے۔ملاحظہ فرمائیں!

(( قال البيهقي في رسالته المسماة بحياة الانبياء:

(1) ۔۔۔۔۔۔ (( اخبرنا ابوسعيد احمدبن محمدبن الخليل الصوفي احمد اللّٰه قال انبأ ابو احمدعبداللّٰه بن عدي الحافظ قال ثنا قسطنطين بن عبداللّٰه الرومي قال ثناالحسن بن عرفة بن قال حدثني الحسن بن قتيبة المدائني ثناالمسلم بن سعيد الثقفي عن الحجاج بن الاسودعن ثابت البناني عن انس رضي اللّٰه عنها قال قال رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم الانبياء احياء في قبورهم يصلون. ) )

اس روایت میں دوراوی ہیں جن کے اوپر ہم نے 1'2کی تعدادلگائے ہیں ان میں سے پہلاقسطنطین بن عبداللہ الرومی ہے یہ مجہول ہے اورجہالت راوی کی جرح شدید کے باب میں سے ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی رومی شخص تھا جیسا کہ اس کے نام اورنسبت سے ظاہر ہےاوررومیوں کی اسلام دشمنی کوئی ڈھکی چھپی نہیں اسلام نے ان کی حکومت کو طشت ازبام کردیا رومی تخت تاج سے محروم ہوگیا قیصر روم ہمیشہ کے لیے صفحہ وجود سے معدوم ہوگیا''وملك قيصر فلاقيصربعده'' لہٰذا وہ اسلام سے جوبھی دشمنی کریں وہ کم ہے لہٰذا اس روایت کوگھڑنے میں اس کی کاروائی ہوسکتی ہے اس کے بعد حسن بن قتیبہ کا نام ہے اس کے متعلق امام دارقطنی فرماتے ہیں''متروک الحدیث''اصول حدیث کے ماہرین کو بخوبی معلوم ہے کہ متروک راوی روایت نہ متابعتًا اورنہ ہی استشہادًاپیش کی جاسکتی ہے کیونکہ ایسا راوی شدیدمجروح ہے کیونکہ متروک عمومًا و اغلبا ًمتہم بالکذب ہوتا ہے لہٰذا یہ روایت ان دواسباب کی وجہ سے ناقابل استشہادہے لہٰذا اسے حدیث کہنا بھی درست نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت