فهرس الكتاب

الصفحة 614 من 660

جدیدطريقہ تقسیم اعشاریہ فیصد

کل ملکیت100

خاوند4/1/25

2بیٹےعصبہ42.857 فی کس21.428

3بیٹیاں عصبہ32.124 فی کس10.714

سوال: کیافرماتےہیں علماءدین اس مسئلہ میں کہ بنام حاجی ابوطالب فوت ہوگیاجس نےوارث چھوڑےایک بھائی جان محمداوربھتیجے۔ بتائیں کہ شریعت محمدی کےمطابق ہرایک کوکتناحصہ ملےگا۔ (سائل جان محمد) (1) گواہ حاجی محمدصادق۔ (2) نورمحمد۔ (3) محمدقاسم۔ (4) حاجی غلام قادر۔

الجواب بعون الوھاب:معلوم ہوکہ سب سے پہلےمرحوم کی ملکیت میں سےاس کے کفن دفن کاخرچہ نکالاجائے، اس کےبعداگرمرحوم پرقرض تھاتواسےاداکیاجائےاورپھراگرمرحوم نےکوئی وصیت کی تھی تو کل مال کےتیسرےحصےتک سے پوری کی جائےاس کےبعدباقی مال منقولہ خواہ غیرمنقولہ کوایک روپیہ قراردےکر وارثوں میں اس طرح سےتقسیم ہوگی۔

مرحوم حاجی ابوطالب ملکیت1روپیہ

وارث:بھائی کومکمل 1روپیہ بھتیجامرحوم

جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے: (( الحقوالفرائض باهلهافمابقي فلاولي رجل ذكر. ) ) [1]

هذاهوعندي والعلم عندربي

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت