فهرس الكتاب

الصفحة 388 من 660

گوقبرمیں اس کا اعادہ نہ بھی ہولیکن اس تعلق کے سبب وہ میت قبرپر واردہونے والے شخص کااحساس کرلیتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس بات کو ہر شخص تسلیم کرتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اورمبارک روح کا جو تعلق آپ کے جسداطہرکے ساتھ ہے وہ کسی اورکے لیے نہیں ہوسکتا جب کہ جواب دینے کے لیے آپ کے لیے اعادہ روح کی ضرورت ہےتودوسروں کی ارواح اس مقام پر کیسے فائز ہوگئیں کہ انہیں اپنے مستقرومقام میں آنے والےشخص کااحساس ہوجائے ۔ وهذاظاهرالبطلان!

بہرحال میت کی قبرپرآنے والے کو پہچاننایااس کے آنے کی خبرمعلوم ہونایہ بات قطعًاغلط ہے۔ هٰذاماسنح في خاطرهذاالعبدالحقير و اللّٰہ اعلم بحقيقة الحال

مقبرےکاحکم

سوال:قبروں پرمقبرےوغیرہ تعمیرکرنا کس طرح درست ہے؟بینواتوجروا!

الجواب بعون الوھاب:کسی کی بھی قبرکے اوپرخواہ وہ کسی ملک کا بانی ہویا ولی ہویابزرگ ہویا عام آدمی ہواس پر کچھ تعمیرکرناسخت منع اورحرام ہے، کیونکہ احادیث صحیحہ میں اس کی ممانعت واردہے بلکہ اس پر تعمیرشدہ چیز کو مٹادینے کا حکم ہے کیونکہ یہ ساری چیزیں شرع کی مخالف ہیں باقی باہرکے لوگ پہلے آکرملک کے بانی کی قبرکی زیارت کریں اس پر چادرچڑھائیں۔ یہ سارے کام بدعت سیئہ اورشرک کے ہیں اورناحق ہیں جن کو قطعًانہیں کرناچاہئے۔ ایسے کاموں کامرتکب اپنے ایمان کی تجدید کر ے کیونکہ یہ شرعی نہیں ہیں بلکہ سخت ناجائزاورحرام ہیں۔ اسی طرح ملک میں جو رواج چل رہا ہے وہ سراسرناجائز وحرام اوربدعت ہے جوقطعًا نہیں کرنا چاہئے۔ وللہ اعلم بالصواب!

من حمله فليتوضا

سوال:بعض علماء كرام فرماتے ہیں کہ حدیث میں آیا ہے کہ (( من حمل ميتا

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت