فهرس الكتاب

الصفحة 426 من 660

والدین کی رضامندی

سوال:کیافرماتے ہیں علماءدین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی کا نکاح والدین کی رضامندی کے بغیرکیا ہے کیا ایسا نکاح جائز ہے یا نہیں جب کہ لڑکی راضی نہیں ہے اوروالدین راضی ہیں توکیا ایسا نکاح جائز ہے؟بینواتوجروا!

الجواب بعون الوھاب:معلوم ہونا چاہئے کہ ایسانکاح ناجائز وحرام ہے کیونکہ جب والدین ناراض ہیں تونکاح نہیں ہوگاجس طرح حدیث میں ہے:

(( ايماامرأة نكحت بغير اذن مواليهافنكاحهاباطل وثلاث مراة. ) ) [1]

''جس نے اپنے والد کی اجازت کے بغیرنکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے، باطل ہے۔ ''

اس سےثابت ہواکہ اگروالدین ناراض ہیں اورخوشی سےنکاح کی اجازت نہیں دیتےتووہ نکاح باطل ہے دوسری حدیث ہے:

(( لانكاح الابولي. ) ) [2]

''ولی کے بغیرنکاح نہیں ہے۔ ''

پھراگرلڑکی نکاح پر راضی نہیں ہے اوروالدین راضی ہیں توبھی یہ نکاح نہیں ہوگایہ بھی نکاح حرام ہے اوراگرکوئی ولی کی اجازت کے بغیرنکاح کیا توبھی یہ نکاح نہیں ہوگابلکہ (زنا) ہوگااورزناکی سزادی جائے گی۔ اگردونوں کنوارے ہیں تو1۰۰کوڑے اوراگرشادی شدہ ہیں توان کو رجم کیا جائے گا۔

اوراگرعورت سےزبردستی نکاح کیاگیا ہے توعورت بےقصورہے صرف مردکوسزادی

[2] ترمذي'كتاب النکاح'باب ماءجاءلانكاح الابولي

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت