فهرس الكتاب

الصفحة 239 من 660

طرح کچھ جاہلوں کا خیال ہے بلکہ یہ دنیوی زندگی یقینًا ان انبیاء علیہم السلام کی وفات اورشہداء کی شہادت پرختم ہوگئی اس پر عقل ونقل اورحس ومشاہدہ شاہد ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

{1ِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ}

{كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ....} {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَ‌سُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّ‌سُلُ أَفَإِي۟ن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ ٱنقَلَبْتُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَـٰبِكُمْ....الاية}

بہرحال کتاب وسنت،حس و مشاہداس پردال ہیں کہ انبیاء علیہم السلام اور شہداءاس دنیا سےتوکوچ کرگئے ہیں اوران پرموت واقع ہوچکی ہے اور ان کی دنیاوی زندگی ختم ہوچکی ہے یہی سبب ہے کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتے ہیں کہ آپ کی عمرمبارک 63سال تھی ورنہ اگردنیوی زندگی ختم نہ ہوئی ہوتی توآج کل آپ کی عمرمبارک چودہ سوسال سے بھی متجاوز ہوتی۔

(( وهذا ظاهر وباهر لاينكر مبتدئي فضلا عن عالم. ) )

بہرحال جب دنيوی زندگی اختتام پذیرہوئی توپھر آپ کو کونسی زندگی حاصل ہے اس کے متعلق قرآن کریم ہی رہنمائی کرتا ہے کہ:

{بَلْ أَحْيَآءٌ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُ‌ونَ}

یعنی انہیں ایسی زندگی حاصل ہے جس کا شعورواحساس تمہیں نہیں ہوسکتا ،دوسری جگہ پرارشادفرمایاکہ:

{بَلْ أَحْيَآءٌ عِندَ رَ‌بِّهِمْ يُرْ‌زَقُونَ} (آل عمران)

یعنی وہ زندہ ہیں اس عالم میں اوراللہ تعالیٰ کے ہاں انہیں رزق دیا جاتا ہے نہ کہ اس دنیا میں ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں زندہ ہونے کا احساس ہمیں نہیں ہوسکتا کیونکہ ہم صرف اس محسوس زندگی کا ہی شعورواحساس رکھتے ہیں باقی دیگر معاملات اورجوعالم ہماری حواس سے ماوراء ہے اسے سمجھنا اوراس کا احساس رکھنے کے متعلق قدرت کی طرف سے ہمیں کوئی بی الٰہ یاوسیلہ ذریعہ نہیں ملاہے مطلب کہ انہیں زندگی توحاصل ہے اوربوجہ اتم حاصل ہےلیکن اس عالم میں اوراللہ تعالیٰ کے ہاں نہ کہ اس دنیا میں بس اس کے متعلق اتنا ہی کلام کیا جا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت