منقول ہوتی روایات میں یہ توآیا ہے بلکہ تابعین کرام رحہم اللہ فرماتے ہیں کہ جب امام سورۃ فاتحہ ختم کرتا تھاتوپیچھے مقتدی آمین اس زورسے کہتے تھے کہ مسجدگونج جاتی لیکن کسی تابعی نےیہ روایت بیان نہیں کی کہ''ربناولك الحمد''كے کلمات کہنے سے مسجد گونج جاتی تھی بلکہ کسی ایک صحابی سے بھی یہ روایت نہیں ہے کہ وہ امام کے پیچھے بلند آواز سے کہتا تھا کیا اس سے ایک منصف مزاج آدمی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ الفاظ بلند آوازسےکہنا نہ مستحب ہیں اورنہ ہی افضل کیونکہ جوبات افضل ہوگی اس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جیسی ہستیاں کیسے پیچھے رہ سکتی ہیں؟اس حدیث سے جو واضح طورپرمعلوم ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ ان کلمات کا ثواب واجربہت ارفع واعلیٰ تھا،اورصحابی نے کچھ ایسے جذبہ سے یہ کلمات کہے تھے کہ اتنے سارے ملائکہ علیہم السلام اس کے اجروثواب لکھنے کے لیے ایک دوسرے سےسبقت لے جانے کے خواہاں ہوئے، باقی اس اجروثواب کاتعلق جہرًایا سرًاکہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتاورنہ اگریہ ثواب واجربلندآوازکے کہنے کی وجہ سے ہوتا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ضرورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو ارشادفرماتے کہ آئندہ تم بھی یہ کلمات بلند آوازسےکہا کرویا وہ خودہی جہرًاکہنے پر عمل پیراہوجاتے، کیا یہ دلیل اظہرمن الشمس نہیں؟ ہاں اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اگر کوئی کبھی جہرًاکہہ بھی دے تواس میں بھی کوئی قباحت نہیں کیونکہ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس جہرًاسےمنع نہ فرمایا۔ بہرحال مندوب وافضل یہ کلمات آہستہ کہنے ہیں ہاں اگرکوئی کبھی کبھاربلند آوازسے کہہ دے توکوئی حرج نہیں، اگرکوئی صاحب اس واضح برہان کے بعد بھی اس پر مصر ہےکہ یہ کلمات بلند آواز سے کہنا مستحب وافضل ہیں توپھر میں گزارش کروں گا کہ صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے کہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نمازپڑھارہےتھےایک آدمی آیا،اس کا سانس پھولاہواتھا وہ صف میں داخل ہوااوراللہ اکبرکہااوراستفتاح والی دعاکی جگہ یہ الفاظ بلند آوازسےکہے:
''الحمدللّٰه حمداكثيراطيبا مباركافيه''
پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نمازسے فارغ ہوئے توتین باردریافت فرمایاکہ یہ کلمات