فهرس الكتاب

الصفحة 298 من 660

روایات کومیدان استدلال میں لاناعلامہ جیسےمحقق کوقطعًامناسب نہیں ہےتعجب تواس بات پرہےکہ اس واضح ضعف کےباوجودعلامہ صاحب اس کوجزمًا و یقینًاحجت ودلیل لینےکےقابل تصورکرتےہیں۔

اس کےدوصفحےآگےلکھتےہیں:

(( ولوكان ذالك ممااقره النبي صلی اللہ علیہ وسلم لماخفي علي ابن مسعودرضي اللّٰه عنه۔ ) )

یعنی ابن مسعودرضی اللہ عنہ کےاثرکوصحیح تصورکرتےہیں حالانکہ یہ اثرضعیف ہےلہٰذااس سےدلیل لیناکس طرح درست ہوگا؟

(2) ۔۔۔۔حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سےایک حدیث روایت ہےکہ وہ صحابی حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ ایک عورت کےگھرگئےجس کےآگےگٹھلیاں یاچھوٹی چھوٹی کنکریاں رکھی ہوئی تھیں الحدیث۔

اس حدیث کوبھی لاکرعلامہ البانیؒ نےعلتیں پیش کی ہیں ایک تواس کی سندمیں خزیمہ راوی غیرمعروف ہےاس کےمتعلقین اولایہ گذارش ہےکہ مستدرک حاکم میں سعیدبن ابی ہلال اورعائشہ بنت سعدکےدرمیان خزیمہ کاواسطہ نہیں ہے۔ (دیکھئےمستدرک الحاکم:ج1،ص548)

جبکہ حاکم کی روایت میں غیرمعروف راوی ہےہی نہیں توپھرحاکم کااس کوصحیح کہنااورحافظ ذہبی کی موافقت بالکل صحیح ہےعلامہ صاحب کااس پراعتراض کرنابالکل بےجاہے۔

ملحوظہ:۔۔۔۔سعیدبن ابی ہلال مدلس بھی نہیں ہےکہ کہاجائےکہ حاکم کی روایت میں اس نےتدلیس کی ہےاورخزیمہ کاواسطہ گرایاہےمطلب کہ یہ راوی ثقہ ہےمدلس بھی نہیں ہے۔عائشہ بنت سعدسےاس کاسماع ممکن ہے،لہٰذایہ روایت صحیح ہے۔

ثانیًاعلامہ صاحب فرماتےہیں کہ:

(( سعدبن ابي هلال مع ثقةحكي الساجي عن احمدانه اختلط فاني الحديث الصحةاوالحسن۔ ) )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت