فهرس الكتاب

الصفحة 500 من 660

امام ترمذی کی اس عبارت پرحافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ فتح الباری میں لکھتے ہیں:

(( وكانه فهم من كون ابن عمر لم يقل في الجواب نعم انه لايقول بالوجوب فان الفعل المجرد لا يدل علي ذالك و كانه اشار بقوله والمسلمون إلٰي انهاليست من الخصائص وكان ابن عمرحريصاعلي اتباع افعال للنبي صلي اللّٰہ عليه وسلم فلذالك لم يصربعدم الواجب. ) )

یعنی گویا امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ سیدناابن عمررضی اللہ عنہما کےسوال کے جواب میں ہاں نہ کہنے سےیہ سمجھے کہ سیدناابن عمررضی اللہ عنہ اس کے وجوب کے قائل نہیں۔ کیونکہ اگروجوب کے قائل ہوتےتوجب سائل نے پوچھاکہ قربانی واجب ہے توآپ فرماتے کہ ہاں (واجب ہے) اورصرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافعل نقل نہ کرتے)

اور مجردفعل (جس کے ساتھ امرقولًاشامل نہ ہو) وجوب پردلالت نہیں کرتااور سیدناابن عمررضی اللہ عنہما والمسلمون (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےبعدمسلمان بھی قربانی کرتےتھے) کالفظ اس لیےبڑھایاکہ ایسانہ ہوکہ کوئی شخص قربانی کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کاہی خاصہ نہ سمجھ بیٹھے)سیدناابن عمررضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےافعال اوراسوہ حسنہ کی اتباع کےحریص تھےاس لیے عدم وجوب کےصریح الفاظ بھی ذکرنہ کئےصرف آپ کا فعل ذکرکرکےاشارہ کردیاکہ یہ واجب نہیں کیونکہ آپ کا فعل مبارک اگرچہ قابل اتباع ہے اوراس کی پیروی کرنا اجروثواب کاباعث ہے اوراللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت پسندیدہ اورمحبوب ترین ہے، تاہم اگروہ فعل امرکے ساتھ نہیں ہے یعنی اس فعل کے متعلق آپ نے امرنہیں فرمایاتووہ فعل واجب نہیں ہوگا۔ تقریبًاتمام مکاتب فکرکے علماءکایہی مسلک ہے کہ محض فعل وجوب پردلالت نہیں کرتا۔

(3) :سیدہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہ سےابوداودمیں روایت مروی ہے کہ:

(( قال رسول اللّٰہ صلي اللّٰہ عليه وسلم من كان له ذبح يذبحه فاذا اهل هلال ذي الحجة فلايأخذن من شعره و لا من اظفارهٖ شيئاحتي

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت