فهرس الكتاب

الصفحة 611 من 660

کمائے ہیں اورقبضہ رکھاباقی20ایکڑرمضان کوملیں گے۔ اس کےبعدبڈھوفوت ہوگیاکل ملکیت کوایک روپیہ قراردیاگیا۔

ورثاء:تین بیویاں2آنہ، 2بیٹیاں10آنہ8پائی، ماں2آنہ8پائی، پانچ بہنیں8پائی۔

جدیداعشاریہ فیصدطریقہ تقسیم

میت رمضان کل ملکیت100

بیوی8/1/12.5

بیٹاعصبہ25

5بیٹیاں62.5 فی کس12.5

میت بڈھو کل ملکیت100

3بیویاں 8/1/12.5 فی کس4.166

2بیٹیاں3/2/66.66 فی کس33.33

ماں 6/1/16.66

5بہنیں عصبہ مع الغیر 4.18فی کس0.836

هذاهوعندي والعلم عندربي

سوال: کیافرماتےہیں علمائےکرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ بنام حاجی محمدرمضان فوت ہوگیاجس نےورثاء میں سےماموں کی اولادیعنی بیٹا، بیوی مائتا (ماں کی طرف سے) بھتیجااوربھتیجی۔ شریعت کےمطابق بتائیں کہ ہرایک کوکتناحصہ ملےگا؟ (بینواتوجروا)

الجواب بعون الوھاب:معلوم ہوناچاہیےکہ سب سےپہلے فوتی کی ملکیت سے کفن دفن، قرضہ وصیت (اگرہوتو) اس کو پورا کیا جائےگااس کے بعدمنقول خواہ غیرمنقول کوایک روپیہ قراردےکراس کےورثاء میں اس طرح تقسیم کی جائےگی۔ کل ملکیت (1) روپیہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت