فهرس الكتاب

الصفحة 626 من 660

اس کےبعدایک بیٹامیرخان فوت ہواکل ملکیت43.75

ماں3/1/14.583 بھائی عمرالدین عصبہ29.167

سوال: کیافرماتےہیں علماءکرام اس مسئلہ میں کہ رب ڈنوفوت ہوگیاجس نےوارث چھوڑے2بیٹے، ایک بیٹی بیٹوں کےنام عبداللہ، حاجی فقیرمحمدتھے، عبداللہ فوت ہوگیاوارث چھوڑےدوبیٹےرب ڈنواورفاروق اوردوبیٹیاں، اس کے بعدحاجی فقیرمحمدفوت ہوگیاجس نے وارث چھوڑےایک بہن، ایک بیوی، 2بھتیجےاوردوبھتیجیاں بتائیں کہ شریعت محمدی کےمطابق ہرایک وارث کوکتناحصہ ملےگا؟

الجواب بعون الوھاب:معلوم ہوناچاہیےکہ مرحوم کےمال میں سےاس کاکفن دفن اورقرض کی ادائیگی کےبعداگروصیت کی تھی توسارےمال کےتیسرےحصےتک سےپوری کرنےکےبعدباقی مال کوایک روپیہ قراردےکر اس طرح تقسیم ہوگی۔

مرحوم رب ڈنوکل ملکیت1روپیہ

وارث:بیٹاکو40پیسےبیٹاکو40پیسےبیٹی کو20پیسے

عبداللہ فوت ہواملکیت40پیسے

وارث:بیٹےرب ڈنوکو2/1/13پیسے، بیٹےفاروق کو2/1/13پیسے، بیٹی کو2/1/6پیسے، بیٹی کو2/1/6پیسے

فقیرمحمدفوت ہوا ملکیت40پیسے

وارث:بیوی کو10پیسے، بہن20پیسےدوبھتیجے10پیسےمشترکہ دوبھتیجیاں محروم

قولہ تعالیٰ: {إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌوَلَهُنَّ ٱلرُّ‌بُعُ}

نیزارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

(( الحقواالفرائض باهلهافمابقي فلاولي رجل ذكر. ) ) (الحديث)

هذاهوعندي والعلم عندربي

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت