فهرس الكتاب

الصفحة 97 من 660

''الریّان''ہے جس سے صرف روزے دارداخل ہوں گے (یعنی وہ لوگ جوفرضی روزوں کے علاوہ نفلی روزے بھی بکثرت رکھتے ہوں گے۔) '' [1]

(2) ۔۔۔۔۔۔''سیدناعقبہ بن عامررضی اللہ عنہ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم میں سے جوکوئی کامل طورپر وضوکرے،پھریہ الفاظ کہے

(( اشهدان لااله الااللّٰه وان محمدا عبده ورسوله. ) )تواس شخص كے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے جن میں سے چاہے داخل ہو۔'' [2]

باقی جنت کی وسعت کے متعلق قرآن کریم میں سورۃ آل عمران اورسورۃ حدید میں آیات موجود ہیں ذیل میں ایک آیت نقل کی جاتی ہے۔

{وَسَارِ‌عُوٓا۟ إِلَىٰ مَغْفِرَ‌ةٍ مِّن رَّ‌بِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْ‌ضُهَا ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتُ وَٱلْأَرْ‌ضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ} (آل عمران:133)

''یعنی جلدی کرو اپنے رب کی مغفرت اوراس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اورزمین کے برابر ہے جوکہ متقین کے لیے تیار کی گئی ہے۔''

جس طرح جہنم میں طبقات ہیں اسی طرح جنت میں درجات ہیں۔جس طرح صحیح بخاری میں ابوہریرۃرضی اللہ عنہ اورترمذی میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

''جنت میں ایک سو (1۰۰) درجات ہیں اورہردودرجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اورزمین کے درمیان ہے۔'' و اللّٰہ اعلم بالصواب

[2] صحيح مسلم:كتاب الطهارة'باب الذكر المستحب عقب الوضوء'رقم الحديث:553.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت