فهرس الكتاب
جس طرح سجدے کے احکام و مسائل اور کیفیت و طریقے کے ضمن میں یہ بات ذکر کی جا چکی ہے کہ مَرد و زن کے مابین کسی صحیح حدیث سے کوئی فرق ثابت نہیں، اسی طرح قعدہ میں بھی مَرد و زن کے مابین چنداں فرق نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مطلقًا حدیث تو کوئی ہے ہی نہیں، البتہ بعض آثار ہیں اور وہ بھی ضعیف ہیں، مثلًا مسائل الامام احمد میں ان کے فرزندِ ارجمند عبداللہ نے اپنے والد کے حوالے سے روایت بیان کی ہے، جس میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں آیا ہے:
''وہ اپنی عورتوں کو حکم فرمایا کرتے تھے کہ وہ نماز میں چوکڑی مار کر بیٹھا کریں۔'' [1]
جبکہ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر العمری ہے جس کے ضعیف ہونے کی وجہ سے یہ اثر ناقابلِ حجت ہے۔ [2]
اس کے برعکس صحیح بخاری میں تعلیقًا اور التاریخ الصغیر امام بخاری و مصنف ابن ابی شیبہ میں موصولًا بسند صحیح، حضرت اُمّ درداء رضی اللہ عنہا کے بارے میں مروی ہے:
''وہ نماز میں مَردوں کی طرح ہی بیٹھا کرتی تھیں، جبکہ وہ ایک فقیہہ عورت تھیں۔'' [3]
معلوم ہوا کہ حدیث: (( صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ ) ) [4] (تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح نماز پڑھتے ہوئے مجھے تم نے دیکھا ہے) کا عموم عورتوں کو بھی شامل ہے اور نماز کے کسی بھی حصے میں مرد و زن کے مابین کوئی فرق نہیں ہے۔ البتہ نماز کے
[2] صححہ محققو زاد المعاد (۱/ ۲۵۵) مشکاۃ (۱/ ۲۸۷ وصححہ، مع المرعاۃ(۲/ ۴۷۸۔ ۴۷۹) سنن البیھقي (۲/ ۱۳۲) المنتقیٰ مع النیل (۲/ ۳/ ۱۳۵) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۵۴) ابن حبان، الموارد (۴۸۵)