فهرس الكتاب
تنزیل،السجدۃ کے برابر)تلاوت فرماتے،جن میں سورت فاتحہ بھی شامل ہوتی۔''
5۔ جبکہ صحیح مسلم،ابو داود و ترمذی اور نسائی میں حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ سے مروی ہے:
(( کَانَ یَقْرَأُ بِـ {وَالسَّمَآئِ وَالطَّارِقِ} وَ {وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ} [1]
''آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر میں سورت {وَالسَّمَآئِ وَالطَّارِقِ} اور سورت {وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ} پڑھا کرتے تھے۔''
6۔ جبکہ سنن ابو داود،ترمذی،نسائی اور صحیح ابن خزیمہ میں حضرت جابر رضی اللہ سے مروی حدیث میں نماز ظہر میں سورۃ اللیل {وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی} کی قراء ت کا ذکر بھی آیا ہے۔ [2]
صحیح مسلم و ابن خزیمہ اور مسند طیالسی میں سورۃ اللیل کے ساتھ ہی سورۃ الشمس {وَالشَّمْسِ وَضُحٰھَا} کا ذکر بھی آیا ہے۔ [3]
7۔ صحیح ابن خزیمہ میں حضرت ابو بریدہ اسلمی رضی اللہ سے مروی ہے اور امام ترمذی نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے،جس میں مذکور ہے:
''قَرَأَ {اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ} وَنَحْوَہَا'' [4]
''آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورت {اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ} اور اس جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔''
8۔ اس کے علاوہ سنن نسائی،صحیح ابن خزیمہ و ابن حبان میں حضرت اَنس بن مالک رضی اللہ بیان فرماتے ہیں:
(( اِنَّہُمْ کَانُوْا یَسْمَعُوْنَ مِنْہُ النَّغْمَۃَ فِی الظُّہْرِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی وَہَلْ اَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ ) ) [5]
''صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نمازِ ظہر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سورۃ الاعلیٰ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} اور سورۃ الغاشیہ {ھَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ} کی ترنم کے ساتھ تلاوت کی آواز سنتے۔''
[2] سنن أبي داوٗد (3/ 22) صحیح ابن خزیمۃ (1/ 257)
[3] صحیح ابن خزیمۃ (1/ 257)
[4] سنن الترمذي (2/ 217) صحیح ابن خزیمۃ (1/ 257)
[5] صحیح ابن خزیمۃ (1/ 257) زاد المعاد (1/ 210) صحیح سنن النسائي،النیل (2/ 3/ 71)