فهرس الكتاب

الصفحة 414 من 778

(( کَانَ رُکُوْعُ النَّبِیِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَسُجُوْدُہٗ وَبَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ وَاِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّکُوْعِ،مَا خَلَا الْقِیَامِ وَالْقُعُوْدِ،قَرِیْبًا مِّنَ السَّوَائِ ) ) [1]

''نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع و سجود،سجدوں کے درمیان اور قومہ سب تقریبًا برابر ہوتے تھے،سوائے قیام اور قعدے کے (وہ لمبے ہوتے تھے) ۔''

دوسرا ذکر:

تسبیحات و اذکارِ رکوع کے سلسلے میں سنن ابو داود،دارقطنی،بیہقی،مستدرک حاکم،معجم طبرانی کبیر اور مسند احمد میں صحیح سند سے تین مرتبہ یہ کہنا بھی مروی ہے:

(( سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ ) ) [2]

''پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا اپنی تعریفوں کے ساتھ۔''

تیسرا ذکر:

رکوع کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض دوسری دعائیں،تسبیحات اور اذکار بھی ثابت ہیں،جن میں سے ایک صحیح بخاری و مسلم،سنن ابو داود و نسائی،مسند ابو عوانہ،مصنف عبدالرزاق اور مسند احمد میں اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

(( کَانَ النَّبِیُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہٖ وَسُجُوْدِہٖ:سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ ) ) [3]

''نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ کہا کرتے تھے:''سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ''(پاک ہے تو اے اللہ ہمارے پروردگار!اپنی تعریفوں کے

[2] تحقیق زاد المعاد (1/ 218) و تحقیق مشکاۃ المصابیح (1/ 278) و ظاہر أسلوب الشوکاني والبناء أحمد عبدالرحمن تقویتہ (2/ 3/ 90) النیل و الفتح الرباني (3/ 255،256 ولکنہ ضعیف)

[3] سنن الترمذي مع التحفۃ (2/ 118 تا 120) نیل الأوطار (2/ 3/ 90) شرح السنۃ للبغوي (3/ 103)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت