فهرس الكتاب

الصفحة 673 من 778

''نماز میں ہر وہ دعا صحیح ہے،جو نماز سے باہر صحیح ہے۔''

ایسے ہی دیگر ائمہ و فقہا اور اہلِ علم کے اقوال بھی ہیں،جن کے اقتباسات باعثِ طوالت ہوں گے۔

دوسری دلیل:

ہر طرح کی دعا کے جواز پر امام بیہقی رحمہ اللہ نے صحیح مسلم اور سنن ابی داود میں وارد اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے:

(( ۔۔۔وَاَمَّا السُّجُوْدُ فَاجْتَہِدُوْا فِیْہِ مِنَ الدُّعَائِ فَقَمِنٌ اَنْ یُّسْتَجَابَ لَکُمْ ) ) [1]

''اب رہے سجدے تو ان میں دعا کرنے کی کوشش کر،وہ دعائیں زیادہ قابل قبول ہیں۔''

تیسری دلیل:

اس بات کی تیسری دلیل بھی صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ رضی اللہ سے مروی ہے،جس میں ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قراء ت کے دوران میں کسی آیتِ رحمت سے گزرتے تو طلبِ رحمت کر کے گزرتے اور جب کسی آیتِ عذاب سے گزرتے تو پناہ طلب کرتے گزرتے تھے۔ [2]

چوتھی دلیل:

ایسے ہی صحیح مسلم،سنن ابو داود،نسائی،بیہقی اور معانی الآثار طحاوی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

(( اَقْرَبُ مَا یَکُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّہٖ وَہُوَ سَاجِدٌ،فَاکْثِرُوْا فِیْہِ مِنَ الدُّعَائِ [فَقَمِنٌ اَن یُّسْتَجَابَ لَکُمْ] ) ) [3]

''بندہ اپنے ربّ کے قریب تر اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو۔لہٰذا سجدے میں زیادہ دعا کیا کرو،یہ دعائیں زیادہ قابلِ قبول ہوتی ہیں۔''

سجود و قعدے میں دعاؤں کی کثرت:

ان احادیث میں کثرت سے دعا کرنے اور دعا کے معاملے میں کوشش کرنے کے الفاظ سے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت