سنن ابی داود کی روایت میں (( وَلاَ جُنُبٌ ) ) [1] کے الفاظ بھی موجود ہیں کہ ''جس گھر میں جنبی رہتا ہو اُس میں بھی فرشتے داخل نہیں ہوتے۔''
امام خطابی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
''فرشتوں سے برکت و رحمت کے فرشتے مُراد ہیں، محافظ نہیں، کیوں کہ وہ تو ہر حال میں بندوں کے ساتھ ہی رہتے ہیں، وہ جنبی ہو یا غیر جنبی۔'' [2]
ہمارا حال آج یہ ہے کہ ہمارے یہاں کمروں کی دیواروں پر تصویریں آویزاں ہیں اور بیگم یا صاحب کی گود میں کُتا بھی کھیل رہا ہوتا ہے۔ شاید دولت زیادہ ہوجانے کی وجہ سے وہ فرشتۂ رحمت کی آمد ضروری نہیں سمجھتے!!
اس بارے میں ہم بس چند ارشاداتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی اکتفا کریں گے۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ ہی فرمایا ہے کہ اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی، جب تک میری امت گذشتہ قوموں کی ہُو بہُو پیروی نہ کرے گی۔
1۔ بخاری شریف کی اس حدیث کے مکمّل الفاظ یہ ہیں:
(( لاَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتَّی تَأْخُذَ أُمَّتِيْ بِأَخْذِ الْقُرُوْنِ قَبْلَہَا شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ( صلی اللّٰه علیہ وسلم ) کَفَارِسٍ وَرُوْم؟ فَقَالَ: وَمَنِ النَّاسُ إِلاَّ أُوْلٰٓئِکَ )) [3]
''اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی، جب تک میری امّت گذشتہ قوموں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک ہاتھ، یعنی ہُو بہُو پَیروی نہ کرے گی۔ عرض کی گئی: اے اللہ
[2] جنبی سے مراد وہ شخص ہے، جو حالتِ جنابت میں غسل نہ کرے یا عادتًا اسے طویل مدت تک لیٹ کر دے۔ رہا، وہ جنبی جو نماز کا وقت ہونے تک غسل میں تاخیر کرتا ہے۔ تو وہ یہاں مُراد نہیں ہے، کیونکہ نماز تک تاخیر کرنا تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ (الکبائر للذہبي ص ۱۹۸) اور یہی بات علامہ ہیتمی نے بھی کہی ہے۔ دیکھیں: الزواجر (۲/ ۳۳۔ ۳۴) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۷۲۶۲)
[3] التجرید الصریح (۲/ ۱۷۳) صحیح الجامع الصغیر، رقم الحدیث (۷۴۰۸)