أَیَّامٍ وَلَیَالِیْھِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَۃٍ وَلٰکِنْ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ نَوْمٍ )) [1]
''نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ دورانِ سفر ہم تین دن اور تین راتیں موزے نہ اتاریں سوائے جنابت ہوجانے کے ، لیکن پیشاب ،پاخانہ اور نیند سے (یہی حکم ہے) ۔'' یعنی ان تینوں امور سے وضو تو ٹوٹ جاتا ہے، مگر ان سے موز ے اتا رنے واجب نہیں ہوتے۔
اس حدیث شریف کی رو سے نیند مطلقًا ناقضِ وضو ہے اور چونکہ یہاں نیند کا ذکر مطلقًا آیا ہے، نماز میں ہو یا نماز کے باہر، کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر، ٹیک لگا کر ہو یا لیٹ کر، سجدے کی حالت میں ہو یا رکوع کی حالت میں؛ ہر شکل میں نیند مطلقًا ناقضِ وضو ہے۔ [2]
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کی طرح ہی ابو عبید قاسم بن سلام کا میلان بھی اسی طرف ہے کہ نیند مطلقًا ناقضِ وضو ہے۔
اس سلسلے میں علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے موطا امام مالک کی شرح ''التمہید'' میں امام ابو عبید سے ایک عجیب واقعہ بھی نقل کیا ہے، جو مذکورہ موضوع کو سمجھنے کے لیے یقینا مفید ہے۔ موصوف فرماتے ہیں:
''میں یہ فتویٰ دیا کرتا تھا کہ اگر کوئی شخص بیٹھا بیٹھا سو جائے تو اس پر وضو کرنا واجب نہیں ہے، یعنی اس کا وضو ایسی حالت کی نیند سے نہیں ٹوٹتا اور میں اس رائے پر اس وقت تک قائم رہا، جب تک یہ واقعہ رونما نہ ہوا کہ ایک شخص جمعہ کے دن میرے ساتھ بیٹھا بیٹھا سوگیا۔ نیند کے دوران میں اس کی ہوا خارج ہوگئی۔ میں نے کہا کہ جاؤ وضو کرو۔ اس نے کہا کہ میں تو سویا ہی نہیں۔ (غالبًا اس کی مراد لیٹ کر سونے سے تھی) میں نے کہا: کیوں نہیں! تم سو گئے تھے اور تمھاری ہوا بھی خارج ہوگئی ہے، جو ناقضِ وضو ہے۔ اس پر اس نے اللہ کی قسم کھائی کہ میں سویا ہوں نہ مجھ سے ہوا خارج ہوئی ہے اور الٹا مجھے کہنے لگا کہ
[2] المحلی لابن حزم (۱؍ ۱؍ ۲۲۲۔ ۲۲۳۔ ۲۳۱)