ذکر قرآنِ کریم میں دو جگہ ان الفاظ میں آیا ہے:
{فَلَمْ تَجِدُوْا مَآئً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا} [النساء: ۴۳، المائدۃ: ۶]
''اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام (تیمم کر) لو۔''
اس سے قبل جسم، لباس اور مقام (جائے نماز) سے متعلق ظاہری طہارت کے احکام ذکر کیے گئے ہیں اور آگے معنوی طہارت (شرک و بدعات اور اَصنام و اَوثان سے طہارت) کا حکم بیان کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
1۔ {وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْئًا} [الحج: ۲۶]
''اور (ایک وقت تھا) جب ہم نے ابراہیم کے لیے خانہ کعبہ کو مقام مقرر کیا (اور ارشاد فرمایا:) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا۔''
2۔ {وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ} [المدثر: ۵] ''اور (اصنام و آثام کی) ناپاکی سے دُور رہو۔''