فهرس الكتاب

الصفحة 157 من 465

غسل کا حکم اور اس کا طریقہ

غسل کب واجب ہوتا ہے؟

جنابت اور خصوصًا جماع کی شکل میں غسل کب واجب ہو تا ہے ؟

1۔ صحیح مسلم میں مروی ہے:

(( اِذَا قَعَدَ بَیْنَ شُعَبِہَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ أَلزَقَ الْخِتَانِ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ) ) [1]

''جب مرد اپنی بیوی کے چاروں ارکان (ہاتھ پاؤں) کے درمیان بیٹھ جائے اور اپنی جائے ختنہ عورت کی جائے ختنہ سے ملادے تو غسل واجب ہو گیا۔''

2۔ سنن ابن ماجہ اور مصنف ابن ابی شیبہ میں مروی ہے:

(( اِذَا الْتَقَیٰ الْخِتَانُ بِالْخِتَانِ وَتَوَارَتِ الْحَشْفَۃُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ) ) [2]

''جب دونوں کی جائے ختنہ باہم مل جائیں اور مرد کا حشفہ ( عضوِ تناسل کا اگلا حصہ) عورت کی شرم گاہ میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہوگیا۔''

3۔ جب کہ صحیح بخاری و مسلم اور بعض دوسری کتبِ حدیث میں مروی ہے:

(( اِذَا جَلَسَ بَیْنَ شُعَبِہَا الْأَرْبَعِ وَأَجْہَدَ نَفْسَہٗ(وَفِیْ رِوَایَۃِ: ثُمَّ جَہَدَ) فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، أَنْزَلَ أَوْ لَمْ یُنْزِلْ )) [3]

''جب مرد عورت کے ہاتھوں اور پاؤں میں بیٹھ گیا اور اس نے جماع کیا تو غسل واجب ہے، انزال ہو یا نہ ہو۔''

[2] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۶۱۱) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۳۸۶)

[3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۹۱) صحیح مسلم مع شرح النووي (۴؍ ۳۹۔ ۴۰) الفتح الرباني (۲؍ ۱۱۳۔ ۱۱۴)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت