فهرس الكتاب

الصفحة 10 من 234

کِتَابُ التَّوْحِیْدِ

کتاب توحید

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ} (الذّٰریٰت: ۵۶)

''میں نے جن اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔'' [1]

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُوْلًا أَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ} (النحل: ۳۶)

''ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ ''اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو'' [2]

نیز آپ یہ بھی فرماتے ہیں: ''بیشک اللہ تعالیٰ یہ بتا رہے ہیں کہ اس نے مخلوق اس لیے نہیں پیدا کی کہ اسے ان کی کوئی ضرورت تھی۔ اور نہ ہی ان سے کوئی فائدہ حاصل کرنا مقصود تھا۔ بلکہ اس نے مخلوق پر اپنا فضل کرم کرتے ہوئے انہیں اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ اور یوں وہ ہر قسم کا فائدہ حاصل کرسکیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے: {اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ} [اسراء ۷] ''اگر تم اچھائی کرو گے تو اپنے نفس کے لیے اچھائی کرو گے۔'' اور اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے: {وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًافَلِاَنْفُسِھِمْ یَمْھَدُوْنَ } [الروم۴۴] ''اور جو کوئی نیک عمل کرے سو وہ اپنے ہی لیے سامان تیار کر رہے ہیں۔''

[2] علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے''اعلام الموقعین میں ۱/۴۹ پر طاغوت کی ایک ایسی تعریف کی ہے جو بڑی جامع و مانع ہے، وہ فرماتے ہیں:طاغوت ہر وہ چیز ہے جس کی وجہ سے انسان حد سے تجاوز کر جائے، خواہ عبادت میں ہو، یا تابعداری میں ، یا اطاعت میں۔ ہر قوم کا طاغوت وہی ہے جس کی طرف وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے فیصلہ کے لئے رجوع کرتے ہیں ، یا اللہ کے سوا اس کی پرستش کرتے ہیں ، یا بلا دلیل/بلا بصیرت اس کی اتباع کرتے ہیں ، یا اس کی اطاعت بغیر اس علم کے کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔اگر آپ دنیا بھر کے لوگوں کا ان کے ساتھ [جاری ہے …]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت