فهرس الكتاب

الصفحة 150 من 234

باب: ما جآء فی الریاء

باب: ریاکاری ایک مذموم عمل ہے۔

[اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ریاکاری ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے اور اس سے نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں] ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا} (الکہف:۱۱۰)

''فرمادیجیے: میں تو ایک اِنسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک اللہ ہی ہے۔ پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو، اُسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے'' [1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

(( اَنَا اَغْنَی الشُّرَکَآئِ عَنِ الشِّرْکِ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا اَشْرَکَ مَعِیَ فِیْہِ غَیْرِیْ تَرَکْتُہٗ وَ شِرْکَہٗ۔ ) ) [2]

''میں تمام شرکا سے بڑھ کر شرک سے مستغنی ہوں۔ جو شخص اپنے عمل میں میرے ساتھ غیر کو شریک کرے تو میں اسے اس کے شرک کے ساتھ چھوڑ دیتا ہوں '' [3]

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

[2] (صحیح مسلم, ِتاب الزہدِ والرقائِقِ, باب من شر فِی عملِہِ غیر اللہِ, ح:2985)

[3] یہ حدیث دلیل ہے کہ ریا والا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں بلکہ وہ مردود عمل ہے۔ جب کسی عبادت میں ابتدا ریا شامل ہو جائے تو وہ ساری عبادت باطل ہو جاتی ہے۔ اور عمل کرنے والا دکھلاوے کی وجہ سے گناہ گار اور شرک خفی کا مرتکب ہوتا ہے۔ البتہ اگر اصل عمل (عبادت) محض اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہو مگر عمل کرنے والا اس میں کسی قدر ریا کو شامل کر دے مثلا اللہ کے لیے نماز پڑھتے ہوئے لوگوں کے دکھلاوے کے لیے نماز کا رکوع طویل کردے اور تسبیحات کی تعداد زیادہ کر دے تو ایسا کرنے سے وہ آدمی گناہ گار ہوگا اور اس کی اتنی عبادت ضائع ہو جائے گی جتنی اس نے ریا کے لیے کی جبکہ مالی عبادت میں ریا شامل ہونے سے ساری عبادت اکارت جاتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت