باب: مِنَ الشِّرکِ الاسْتِعَاذَۃ بِغَیر اللّٰه
باب: غیر اللہ کی پناہ طلب کرنا شرک ہے [1]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَّ اَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَدُوْھُمْ رَھَقًا} (الجن:۶)
''انسانوں کے کچھ لوگ جنات میں سے بعض لوگوں کی پناہ مانگتے تھے پس انہوں نے ان کو مزید سرکش بنادیا'' [2]
حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
(( سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَقُوْلُ: (( مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًافَقَالَ اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّا تِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ) )لَمْ یَضُرَّہٗ شَیْئٌ حَتّٰی یَرْحَلَ مِنْ مَّنْزِلِہٖ ذٰلِکَ۔ )) [3]
جنات سے فائدہ حاصل کرنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اپنی کوئی ضرورت پوری کرا لے یا اپنا کوئی حکم منوا لے، یا کسی نا معلوم اور مقام بعید کی خبر حاصل کر لے وغیرہ وغیرہ۔ اور جنات کے انسانوں سے فائدہ حاصل کرنے کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ان سے اپنی تعظیم کرا لے، یا اس کو استعاذہ پر مجبور کر دے یا اپنے سامنے اس کو کسی کام کے لیے مجبور کر دے وغیرہ۔ ''اس استعاذہ سے اگر کوئی دنیوی فائدہ حاصل ہو بھی جائے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہو تا کہ یہ شرک نہیں ہے بلکہ یہ شرک ہی رہے گا۔''
[2] یہاں رہقاکا معنی یہ ہے کہ ان کے دلوں میں اس قدر خوف و اضطراب پیدا ہو گیا کہ وہ [جنات] ان پر ظلم و زیادتی کرنے لگے۔ ظلم جسم پر بھی ہوتا ہے اور روح پر بھی۔ گویا ان پر جنات کا یہ ظلم بطور سزا تھا اور سزا کسی گناہ پر ہی ہوتی ہے [تو معلوم ہوا کہ غیر اللہ سے پناہ مانگنا گناہ ہے]
آیت مبارکہ میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہوئی ہے اور یہ مذمت صرف اس لیے ہے کہ انہوں نیاس عبادت کا حقدار غیر اللہ کو ٹھہرایا جبکہ اللہ عزوجل کا حکم ہے کہ اس کے سوا کسی سے پناہ نہ مانگی جائے۔ امام قتادہ رحمہ اللہ اور بعض دیگر اسلاف کا قول یہ ہے کہ رہقاکا معنی گناہ ہے اس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیر اللہ سے پناہ مانگنا باعث گناہ ہے۔تعظیم کرا لے، یا اس کو استعاذہ پر مجبور کر دے یا اپنے سامنے اس کو کسی کام کے لیے مجبور کر دے وغیرہ۔ ''اس استعاذہ سے اگر کوئی دنیوی فائدہ حاصل ہو بھی جائے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہو تا کہ یہ شرک نہیں ہے بلکہ یہ شرک ہی رہے گا۔''
[3] (مسلم، الذکر و الدعا،… ح:2708 وجامع الترمذی، الدعوات باب ماجا مایقول اذا نزل… ح:3437)