باب: فی قولہٖ تعالیٰ: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ…
باب: کچھ لوگ اللہ کے علاوہ معبود بنالیتے ہیں … [1]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَندَادًا یُّحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللّٰهِ} [البقرۃ ۱۶۵]
''کچھ لوگ اﷲ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اس کا شریک بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اﷲ تعالیٰ سے ہونی چاہیے۔''
نیز ارشاد ربانی ہے:
{قُلْ اِنْ کَانَ ٰابَآؤُکُمْ وَ اَبْنَآؤُکُمْ وَ اِخْوَانُکُم… اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِہٖ} [التوبہ 24]
''آپ فرما دیں: اگر تمھارے آباء،تہارے بیٹے، بھائی… تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ عزیز ہیں۔''
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں غیر اللہ سے زیادہ محبت رکھنا اور محبت میں غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ سے مقدم سمجھنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے؛اور ایسا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے وعید فرمائی ہے۔ لہذا توحید کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ہر محبوب شے پر فوقیت دے۔
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ''جو شخص غیر اللہ سے ایسی والہانہ محبت رکھے جیسی کہ اللہ سے کی جاتی ہے تو گویا اُس نے اس غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر قرار دے لیا۔ یہ معبود محبت میں ہو گا نہ کہ تخلیق اور ربوبیت میں کیونکہ لوگ ربوبیت اور تخلیق میں غیر اللہ کو معبود نہیں بناتے بلکہ محبت میں بناتے ہیں۔ اس لئے کہ اکثر لوگوں نے غیر اللہ سے ایسی محبت قائم کر رکھی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و توقیر سے تجاوز کر گئے ہیں۔''
اس آیت کے معنی میں علماء کے دونوں قول نقل کئے گئے ہیں: ۱۔ ''جو لوگ مومن ہیں ، ان کی اللہ تعالیٰ سے محبت، ان کی مشرکین کی، اپنے معبودانِ باطل کی محبت اور عظمت سے کہیں زیادہ ہے۔'' ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کا مطلب مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں: ''ان پر فخر و مباہات کا اظہار کرتے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر مانتے ہیں ، ایمانداروں کی اللہ سے محبت، ان کافروں کی اپنے بتوں کی محبت سے کہیں زیادہ ہے۔''