فهرس الكتاب

الصفحة 162 من 234

باب: اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ …

باب: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں علماء اور حکمرانوں کی اطاعت…

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْابِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْک}

''اے نبی! آپ نے انہیں نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں: ہم آپ پر نازل کردہ کتاب پر ایمان لائے ہیں۔''

مصنف کے اس باب کے عنوان سے ان کا مقصد ظاہر ہوتا ہے۔ بلا شک و شبہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی قدری اور شرعی اورجزائی احکام جاری کرتے ہیں۔ اور صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ہی معبود برحق وحدہ لاشریک جان اور سمجھ کر ان کی بندگی اور ایسی مطلق اطاعت کی جاتی ہے جس کے ساتھ کوئی معصیت اور نافرمانی نہیں کی جاسکتی۔اور دیگر ہر ایک کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری کے تابع ہوتی ہے۔ جب لوگ علماء اور حکمرانوں کو ایسا کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کی اطاعت کو ہی اصل بنیاد بنالیتے ہیں ؛ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو ان کی اطاعت کے تابع کردیتے ہیں۔ پس جو کوئی ایسا کرتا ہے ؛ یقینًا وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو اپنا رب اور معبود بناتا ہے؛ اور ان سے فیصلے کرواتا ہے۔ اور ان کے حکم کو اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر ترجیح اور افضلیت دیتا ہے۔ ایسا کرنا عین کفر ہے۔ بلا شک وشبہ حکم سارے کا سارا صرف اورصرف اللہ کے لیے ہے؛ جیسے ہر قسم کی عبادت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت