فهرس الكتاب

الصفحة 164 من 234

نہیں ؛لگی اور وہ اسے اجنبی سا محسوس کر رہا ہے تو یہ منظر دیکھ کر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:

'' ان لوگوں کا ڈر عجیب ہے کہ اللہ کی محکم آیات سن کر ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور متشابہ آیات سن کر (اور نہ مان کر) ہلاکت میں پڑتے جارہے ہیں '' [1]

اور جب قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رحمن کا ذکر سنا تو انہوں نے اس کا انکار کیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں آیت نازل فرمائی:

{وَ ھُمْ یَکْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ …} (الرعد:۳۰)

''اوروہ رحمن کا انکار کرتے ہیں ؛ …'' [2] (تفسیر ابن جریر الطبری)

اس باب کے مسائل:

1۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء یا صفات میں سے کسی چیز کے انکار سے ایمان ختم ہوجاتا ہے۔

2۔ سورہ رعد کی آیت 30 کی تفسیر بھی واضح ہوئی۔ [جس میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن کا تذکرہ ہے] ۔

3۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جو بات سننے والے کے فہم سے بالا تر ہو اسے بیان نہیں کرنا چاہیے۔

4۔ اس کی وجہ بھی بیا ن ہوئی کہ اس سیسننے والا، اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کا خواہ مخواہ مرتکب ہوجاتا ہے اگرچہ اس کا قصدو ارادہ تکذیب کا نہ بھی ہو۔

5۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے کسی نام یا صفت کا انکار ہلاکت و تباہی کا سبب ہے۔

اس باب کی شرح:

اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے منکر کا حکم

[2] الرحمن۔اللہ عزوجل کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ مشرکین و کفار مکہ کہا کرتے تھے کہ ہم تو صرف یمامہ (علاقہ) کے رحمن کو جانتے ہیں ، اس کے سوا کسی رحمن کو نہیں جانتے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نام ، رحمن کا انکار کیا اور اس طرح وہ ذات باری تعالیٰ کے منکروکافر ہوئے اسی لیے اللہ عزوجل نے فرمایا: {وَ ھُمْ یَکْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ … } '' وہ رحمن کے ساتھ کفر کرتے ہیں ''۔ لفظ الرحمن اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر نام بیک وقت دو چیزوں پر دلالت کرتا ہے ایک تو ذات باری تعالیٰ اور دوسری ، وہ صفت جس کا مفہوم ، یہ نام اداکرتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت