(( إن الرجل لیتکلم بِالکلِمۃِ لا یلقِی لہا بالا… ) )
''بسا اوقات انسان کوئی ایسا کلمہ کہہ جاتا ہے کہ انسان کو تو اس کی سنگینی کا احساس نہیں ہوتا…۔''
۵۔ بسا اوقات کسی کا انتہائی ناپسندیدہ قول یا فعل، کسی دوسرے کی مغفرت کا سبب بن جاتا ہے۔ [1]
دوم: یہ کہ انسان بڑائی اور تکبر سے تو اللہ تعالیٰ پر قسم نہ اٹھائے۔ لیکن اس لیے وہ قسم اٹھائے کہ وہ جس چیز کا ایمان و یقین رکھتا ہے ؛ وہ امر واقع میں ؛ یا جس چیز کا وہ سامنا کر رہا ہے ؛ اس میں حقیقت میں بھی صحیح ہو۔ اور یہ انسان اللہ تعالیٰ پر جب قسم اٹھاتا ہے کہ مستقبل میں ایسا ہوگا؛ تو یہ تذلل اور خضوع کے اعتبار سے ہوتا ہے ناکہ انانیت اور تکبر کے اعتبار سے۔ اوریہی وہ چیز ہے جو اس حدیث میں وارد ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے:
(( إن من عباد اللہ من لو أقسم علی اللہ لأبرّہ۔ ) ) [البخاری ۲۷۰۳ ؛ مسلم ۱۶۷۵۔]
''بیشک اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے ہیں ؛ اگر وہ اللہ کی قسم اٹھالیں ؛ تو وہ اسے پورا کردے۔''
اس لیے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا نام لیکر قسم اٹھائی ہے؛ جو کہ تکبر؛ بڑائی اور خودنمائی کے طور پر نہیں تھی؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بطور حاجت اور افتقار کے ہے۔پس جب اس نے قسم اٹھائی تو اللہ کی بارگاہ میں اپنی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے قسم اٹھائی۔ اور اس نے اس کی تائید و تاکید میں اللہ تعالیٰ اور اس کے اسماء حسنی کی قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن کی بنا پر اٹھائی ہے۔ تو ایسا کرنا جائز ہے۔ تو بیشک اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے ہیں ؛ اگر وہ اللہ کی قسم اٹھالیں ؛ تو وہ اسے پورا کردے۔'' کیونکہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور عبودیت ؛ انکساری اور تواضع پائی جاتی ہے؛ جس کے وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے سوال کو پورا کرتے ہیں ؛ اور اس کی طلب اور رغبت پوری ہو تی ہے۔