ان دونوں آیات کا مضمون ایک ہی ہے،یعنی اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء مبعوث فرمائے اور ان میں سے کچھ کا قرآن پاک میں تذکرہ فرمایا اور کچھ کانہیں فرمایا۔
جن انبیاء کے اسمائِ گرامی یا واقعات قرآن پاک میں مذکورہیں ان کی تعداد پچیس ہے، جن میں سے اٹھارہ کاذکر تو ایک ہی مقام پر ہے، چنانچہ سورۃ الانعام میں فرمایا:
[وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ اٰتَيْنٰهَآ اِبْرٰهِيْمَ عَلٰي قَوْمِهٖ ۭ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ 83وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ ۭ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوْحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ 84ۙوَزَكَرِيَّا وَيَحْيٰى وَعِيْسٰي وَاِلْيَاسَ ۭكُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ 85ۙ وَاِسْمٰعِيْلَ وَالْيَسَعَ وَيُوْنُسَ وَلُوْطًا ۭ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَي الْعٰلَمِيْنَ 86ۙ] [1]
یہ آیاتِ مبارکہ اٹھارہ انبیاءکرام علیہم السلام کے ناموں پر مشتمل ہیں، باقی سات انبیاء کا یہاں ذکرنہیں ہے ،دوسرے متفرق مقامات پر ان کا تذکرہ موجودہے،ان کے اسمائِ گرامی درج ذیل ہیں:
آدم،ادریس،ھود،صالح، شعیب، ذوالکفل اورمحمدصلوات اللہ وسلامہ وبرکاتہ علیھم أجمعین۔
تمام انبیاء مرد تھے
ان نصوص سے یہ بات آشکارہ ہورہی ہے کہ تمام انبیاء مرد تھے، کسی عورت کو رتبۂ نبوت سے سرفراز نہیں کیاگیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا] [2] یعنی:ہم نے آپ سے پہلے مَردوںہی کو مبعوث فرمایا،البتہ نبوت کے بعد صدیقیت کادرجہ ہے جو خواتین کیلئے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ۰ۚ قَدْ خَلَتْ
[2] یوسف:۱۰۹