اس گناہ کے ارتکاب میں ان کے ارادہ ومشیئت کو کوئی دخل نہیں۔
ہماری اس تقریر سے ایک سوال کا جواب آسان ہوگیا جو بار بار پوچھا جاتا ہے اور وہ یہ کہ:بندہ مسر ہے یا مخر ؟
مخر سے مراد:جسے اپنے افعال واعمال پر اختیار حاصل ہو ،اور مسر سے مراد جو ہر قسم کے اختیار، ارادہ اور مشیئت سے عاری ہو،اور جس طرح چلایا جائے اسی طرح چلنے پر مجبور ہو۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نہ تو اسے مطلقًا مسر کہا جاسکتا ہے نہ مطلقًا مخر ،بلکہ یوںکہاجائے گا کہ وہ اس اعتبار سے مخر ہے کہ اسے اپنے افعال کی انجام دہی میں مشیئت وارادہ حاصل ہے، جس کی بناء پر اس کے تمام اعمال اس کا کسب قرار پاتے ہیں ،چنانچہ وہ ہر نیک عمل پر مستحقِ ثواب، اور ہر بُرے عمل پر مستحقِ عذاب ہے۔ جبکہ بندہ اس اعتبار سے مسر ہے کہ اس سے صادر ہونے والاکوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے خارج نہیں بلکہ ہر عمل اللہ تعالیٰ کی مشیئت ،ارادہ ،خلق اور ایجاد کے دائرہ میں ہے۔
ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کی مشیئت وارادہ سے حاصل ہوتی ہے
قولہ: یضل من یشائ،فیخذلہ بعدلہ ، ویھدی من یشاء فیوفقہ بفضلہ، فکل میسر بتیسیرہ الی ماسبق من علمہ وقدرہ،من شقی او سعید
ترجمہ:جسے چاہتا ہے، بتقاضۂ عدل گمراہ کرکے ذلتوں اور پستیوں میں پھینک دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے ،بتقاضۂ فضل ہدایت وتوفیق سے سرشار فرمادیتا ہے ،لہذا ہر بدبخت یا نیک بخت پر، اللہ تعالیٰ کے علمِ سابق اور اس کی لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق اس کی توفیق سے (بُرا یا اچھا) راستہ آسان کردیا گیا۔