فرمان کے مطابق ہرانسان کادوبارہ ڈھانچہ اس طرح تیار کردیاجائے گا کہ ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں کے نشانات میں بھی کوئی فرق نہ ہوگا۔
[اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ Ǽۭبَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ C] [1]
ترجمہ:کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں ۔
اللہ تعالیٰ نے عقیدۂ بعث بعدالموت کا جابجاذکرکیا اور کفار کے مزعومہ اشکالات کاردفرمایا،اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ کے احقاق کیلئے تین طرح سے استدلال فرمایا۔
1انسان کو پہلی بار پیداکرنا۔اس بات کو مشرکینِ مکہ بھی تسلیم کرتے تھے،وجۂ استدلال یہ ہے کہ جو ذات پہلی بار پیداکرنے پر قادر ہے،اس کیلئے اس وجود کو دوبارہ بنانا کون سامشکل ہے؟
[اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ 77وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ ۭ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ 78قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَهَآ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِـيْمُۨ 79] [2]
ترجمہ:کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی (اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زنده کر سکتا ہے؟آپ جواب دیجئے! کہ انہیں وه زنده کرے گا جس نے انہیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے، جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے والاہے۔
[2] یسین:۷۷-۷۹