فهرس الكتاب

الصفحة 261 من 285

کہلاتی ہے،ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

(لاتقوم الساعۃ إلا علی شرار الناس) [1]

یعنی: قیامت نہیں قائم ہوگی مگر انتہائی بُرے لوگوں پر۔

یہاں قیامت کے وقوع سے مراد ،وہ زندہ لوگ ہیں جو صور پھونکنے سے موت کا شکار ہوجائیں گے،ان کی موت کو قیامت سے تعبیر کیاگیا ہے۔

نفخِ صور سے قبل مرنے والے لوگوں کا مرنابھی ان کیلئے وقوعِ قیامت ہے،چنانچہ جوشخص مرتا ہے اس کی قیامت قائم ہوجاتی ہے، کیونکہ موت کی صورت میں وہ دارالعمل یعنی دنیا سے دارالجزاء یعنی آخرت کی طرف منتقل ہوجاتاہے۔

قیامت کے وقوع کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے

واضح ہوکہ قیامت کے وقوع کا علم صرف اللہ رب العزت کے پاس ہے،کوئی مخلوق وقوعِ قیامت کے وقت سے آگاہ نہیں ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

[يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَۃِ اَيَّانَ مُرْسٰىہَا۰۰۰۰۰۰] [2]

یعنی: یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اورظاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا وه تم پر محض اچانک آپڑے

[2] الاعراف:۱۸۷

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت