[وَّاَنَّ السَّاعَۃَ اٰتِيَۃٌ لَّا رَيْبَ فِيْہَا۰] [1] یعنی:اور یہ کہ قیامت قطعًا آنے والی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں اور یقینًا اللہ تعالیٰ قبروں والوں کو دوباره زنده فرماکراٹھائے گا ۔
نیز فرمایا:
[وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاءَ اللہُ۰] [2]
یعنی:اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے مگر جسے اللہ چاہے، پھر دوباره صور پھونکا جائے گا پس وه ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے۔
نیز فرمایا:
[وَتَرَكْنَا بَعْضَہُمْ يَوْمَىِٕذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَـجَـمَعْنٰہُمْ جَمْعًا ] [3]
یعنی:اس دن ہم انہیں آپس میں ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے اور صور پھونک دیا جائے گا پس سب کو اکٹھا کرکے ہم جمع کر لیں گے۔
اہل السنۃ والجماعۃ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کا حشر، ان کے دنیا کے جسم کے ساتھ ہوگا،وہی آنکھیں،کان اور چمڑی ہوگی۔
[2] الزمر: 68
[3] الكهف: 99