فهرس الكتاب

الصفحة 163 من 285

الثَّمَرٰتِ۰] [1]

ترجمہ:اور وه ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وه خوش کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ جب وه ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں، تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ یوں ہی ہم مردوں کو نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم سمجھو ۔

3تیسرا طریقِ استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کے خالق ہونے کا ذکرفرمایا ،توجوذات آسمانوں اورزمینوں جیسی عظیم مخلوقات پیداکرنے پر قادر ہے،اس کیلئے انسان کاڈھانچہ بنانا کونسا مشکل ہے؟

[اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللہَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى۰] [2]

ترجمہ:کیا وه نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے وه نہ تھکا، وه یقینًا مُردوں کو زنده کرنے پر قادر ہے؟ کیوں نہ ہو؟ وه یقینًا ہر چیز پر قادر ہے ۔

نیزفرمایا:

[اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللہَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ وَجَعَلَ لَہُمْ اَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيْہِ۰] [3]

ترجمہ:کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ جس اللہ نے آسمان وزمین کو پیدا کیا ہے وه ان جیسوں کی پیدائش پر پورا قادر ہے، اسی نے ان کے لئے ایک ایسا وقت مقرر کر رکھا ہے جو شک شبہ سے یکسر خالی ہے، لیکن ظالم لوگ انکار کئے بغیر رہتے ہی نہیں ۔

[2] الاحقاف:۳۳

[3] الاسراء:۹۹

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت