فهرس الكتاب

الصفحة 58 من 103

خاموش رہے ہیں۔ مثلا ً:

۱: احمد الباھلی بالاتفاق متر وک اور کذا ب روای ہے، لیکن اس سے مروی حدیث پر حافظ ابن حجر نے سکوت اختیا ر کیا ہے۔ [1]

۲: عبد الغفا ر بن قا سم کذا ب اور متر وک کی روا یت پر حا فظ صاحب نے خاموشی اختیا ر کی ہے۔ [2]

۳: اسی طرح محمد بن سائب کلبی کی جھوٹی مروی روا یت پر حا فظ ابن حجر نے خا موشی اختیا ر کی۔ [3]

صاحبِ بصیرت کے لیے یہی تین مثا لیں کا فی ہیں کہ حا فظ ابن حجر اپنی کتا ب میں کذاب اور متروک راویوں کی روایا ت موضو ع پر بھی خاموشی اختیار کر جاتے ہیں توان کا سکوت حسن ہو نے کی دلیل نہیں ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: [4]

امام حا کم اور علا مہ ذہبی کا سکوت:

امام حا کم کا مستدرک حاکم میں اور حا فظ ذھبی کا تلخیص مستدرک حا کم میں کسی حد یث پر خامو شی اختیا ر کر نا ان کے نز دیک حدیث کے صحیح ہو نے پر دلالت نہیں کرتا۔بعض لو گ اپنے مسلک کی تا ئید میں وارد روایت کو صحیح باور کر انے کے لیے مذکو رہ بے بنیاد اصول کا سہارا لے لیتے ہیں اور

[2] (فتح البا ری: ۸؍۵۰۳) .

[3] (فتح البا ری: ۷؍۱۵۳) .

[4] (اعلا ء السنن فی المیزان:ص ۷۴ ،۸۹) .

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت