فهرس الكتاب

الصفحة 78 من 103

اس کتا ب کی طر ف رجو ع کرے۔

امام تر مذی کی تصحیح یاتحسین ِحدیث کا اعتبا ر نہیں:

کیو نکہ امام ترمذی متساہل تھے اور کمزور حدیث کوصحیح یا حسن کہہ دیتے تھے، مثلًاایک روایت جس میں ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات ایک قبر میں داخل ہو ئے، چرا غ کو جلا یا گیا تو میت کو قبلہ کی طر ف سے لے کر قبر میں اتا را گیا (سنن التر مذی:۱۰۵۷اس کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے )

ا س پر تبصرہ کر تے ہو ئے علا مہ زیلعی حنفی لکھتے ہیں ''اس کو حسن کہنے پر اما م تر مذی کا انکا ر کیا گیا ہے کیو نکہ اس میں حجا ج بن أ رطا ۃ مدلس ہے اور ابن قطا ن نے کہا ہے کہ اس میں منہا ل بن خلیفہ ہے جس کو امام ابن معین نے ضعیف اور امام بخا ری نے فیہ نظر کہا ہے۔ [1]

حا فظ ذہبی فر ما تے ہیں: تین راویو ں کے ضعیف ہونے کے با وجو د اس روا یت کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے، لہذا ترمذی کی تحسین سے دھو کا نہ کھاؤ،تحقیق پر ان کی غا لب حسن، ضعیف ہیں۔ [2]

حا فظ ذہبی ایک راوی پر تبصرہ کر تے ہو ئے فر ماتے ہیں: سیف بن محمد الثو ری کذاب ہے۔تعجب ہے کہ تر مذ ی اس کی حدیث کو حسن کہتے ہیں۔ (الکا شف:۱/ ۳۶۸) بلکہ یہا ں تک کہ ایک راوی کو خو د ایک جگہ ضعیف کہہ رہے ہیں اور دوسری جگہ اس ضعیف راوی کی روا یت کو خو د حسن بھی کہہ دیتے ہیں مثلا ًایک روایت (۳۲۹۴) کو حسن غریب کہا پھر خو د ہی دوسری جگہ

[2] (میزان الا عتدال:۴؍۴۱۶) .

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت