اہلِ اسلام کا عمومًا اور ہمارا اہلِ سنت والجماعت کا خصوصًا یہ اعتقاد ہے کہ انبیاے صادقین پیدایش سے تا وفات بالذات بے عیب اور معصوم تھے۔ عصمت کے معنی روکنے اور بچانے کے ہیں ۔ تقدیس اور تنزیہ کے معنی بے عیب اور پاک ہونے کے ہیں ۔ عصمت ثابت کرنے سے پیشتر ہم یہاں گناہ کی تعریف کرنا مناسب سمجھتے ہیں ۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
''اے لوگو! جو کچھ تم بھول کر گزرو یا تم سے سبقت لسانی کی وجہ سے غلطی ہو جائے تو اس صورت میں تم پر کوئی گناہ نہیں ، لیکن گناہ اس چیز میں ہے کہ تم اس کو قصدًا جان بوجھ کر دلی ارادے سے کرو۔ '' [الأحزاب: ۵]
اس آیت نے گناہ کی تعریف وضاحت سے کر دی، یعنی گناہ وہ چیز ہے کہ کسی شخص کو علم ہو کہ یہ کام خدا کی شریعت کے خلاف ہے، پس وہ جان بوجھ کر دلی ارادے سے کرے۔ تعمّد اور ارادے کی قید سے سہوًا نسیان یا زبان سے بے ساختہ غلطی کا نکل جانا کوئی گناہ نہیں ہے۔ اسی طرح نا بالغ بچہ یا مجنون یا مجبور کیا ہوا یا جس شخص کو علم نہیں یا مجتہد سے اجتہادی غلطی ہو جائے تو یہ امورِ شریعت اور عقل کے نزدیک کوئی گناہ نہیں ۔
ہمارے مخاطب پادری صاحب بھی گناہ کی تعریف کرتے ہیں ، چنانچہ اپنے رسالے کے صفحہ نمبر (۷) میں لکھتے ہیں کہ بائبل فرماتی ہے کہ گناہ خلافِ شریعت ہے۔ شرع خدا خالق کا اخلاقی اور راست قانون ہے۔ چونکہ اس کے ساتھ قصدًا دلی ارادے کی قید لگا کر بھول جانا اور بے ساختہ غلطی ہو جانا وغیرہ سے اس کو الگ نہیں کیا گیا، لہٰذا یہ تعریف بالکل غلط ہے۔ گناہ کی مذکورہ بالا تعریف کے مطابق کسی نبی سے جان بوجھ کر خدا کی شریعت کی کبھی مخالفت نہیں ہوئی، لہٰذا گناہ سے بے عیب ہونا انبیا ہی کا خاصا ہے، لیکن بتقضائے بشریت سہوًا بھول کر ان سے بھی کبھی کبھی غلطی ہو جایا کرتی ہے۔ اسی