فهرس الكتاب

الصفحة 631 من 690

مسئلہ حیاتِ مسیح علیہ السلام

پہلی دلیل:

{وَ قَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَ مَا قَتَلُوْہُ وَ مَا صَلَبُوْہُ وَ لٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَ مَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا* بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا} [النسائ: ۱۵۷، ۱۵۸]

'' اور ان کے یہ کہنے کی و جہ سے کہ ہم نے مسیح عیسٰی ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا، حالانکہ انھوں نے نہ انھیں قتل کیا اور نہ انھیں سولی پر چڑھایا، بلکہ انھیں شبہے میں ڈال دیا گیا اور بے شک جنھوں نے عیسٰی کے بارے میں اختلاف کیا وہ ضرور ان کے متعلق شک میں ہیں ۔ ان لوگوں کے پاس ان کے بارے میں کوئی علم نہیں سوائے گمان کی پیروی کے اور انھوں نے یقینا انھیں قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے انھیں اپنی طرف اٹھالیا اور اللہ بڑا زبردست ، بہت حکمت والا ہے۔''

اس آیت میں ''بل'' اضرابی ہے چونکہ اس کے پیشتر کی کلام منفی ہے اور بعد کی کلام مثبت ہے، اس لیے اس کو ''بل'' اضرابی کہا جاتا ہے اور اس کا ترجمہ یوں ہے: ''بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔'' ''رفع'' کا صلہ جب ''إلیصحیح بخاری میں ہے کہ جب حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے: (( رُفِعَ إِلَی السَّمَائِ ) ) [آسمان کی طرف اٹھایا گیا] (( ثُمَّ وُضِعَ ) ) [1] [پھر رکھے گئے] ''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت