فهرس الكتاب

الصفحة 273 من 690

کے مندرجہ ذیل پرمان پر عمل کیا جائے تو اس سے از حد بہتر ہو گا، بانجھ عورت اور جس کی اولاد نہ جیتی ہو اور جو دختر ہی پیدا کرتی ہو، ایسی عورت پر حسبِ سلسلہ آٹھویں یا دسویں یا گیارھویں سال دوسرا وِواہ کرنا چاہیے اور بدزبان کے اوپر تو فورًا دوسرا ویواہ کرنا چاہیے۔ جو عورت مریض ہو، لیکن خیر خواہ اور بامروت ہو تو اس کی اجازت سے دوسرا ویواہ کرنا چاہیے۔ مگر اس کی بے قدری ہر گز نہ کرنا چاہیے (منو سمِرتی ادھیاے ۹ شلوک ۸۰،۸۱)

مذکورہ بالا صورتوں میں بہ نسبت نیوگ کے، جو شرم و حیا کو خاک میں ملانے والی ہے، اولاد کے لیے دوسرا نکاح کرنا نہایت پاکیزہ اور از حد بہتر ہے۔ اسلامی تعددِ ازواج کا مسئلہ ختم ہوا۔ اب سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کی ذات پر اعتراضات کو مع جوابات ذکر کیا جاتا ہے۔ ناظرین توجہ سے سنیں !

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت