فهرس الكتاب

الصفحة 83 من 690

جس میں سیاست کے ضوابط و قوانین پائے جاتے ہیں ۔ بخلاف عیسائی مذہب کے کہ اس میں سیاست کے قوانین کا پایا جانا تو درکنار بلکہ وہ اس سے مخالفت اور بیزاری ظاہر کرتا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے، دوسرا بھی اس کی طرف پھیر [1] دے۔ (متی، باب ۵، درس ۳۹ تا ۴۰)

گویا ہرشریر آدمی، زانی، چور، بدمعاش، شرابی اور ظالم کو اجازت دے دی کہ ملک میں جس طرح چاہیں بدمعاشی کریں ۔ ان کو مقابلہ کر کے اگر بدمعاشی اور ظلم سے روکا جائے تو اس تعلیم کی مخالفت ہوتی ہے، جو ممنوع ہے۔ اس تعلیم کی بنا پر اگر کوئی شخص عیسائی سے طمانچہ مار کر حکومت بھی چھین لے تو اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پس ایسے مذہب، جس کی تعلیم سے ملک میں بد امنی پھیلے، اس کو عالمگیر ماننا انصاف کا خون کرنا ہے۔ مختصر یہ کہ اسلام کے سوا دنیا میں کوئی عالمگیر مذہب نہیں ، اس کے عالمگیر ہونے کی تو زمانہ شہادت دیتا ہے۔ [2]

[2] ایک مثال یہ بھی ہو سکتی ہے: پولوس لکھتا ہے: ''ہر شخص اعلیٰ حکومتوں کا تابعدار رہے، کیوں کہ کوئی حکومت ایسی نہیں ، جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حکومتیں موجود ہیں ، وہ خدا کی طرف سے مقرر ہیں ، پس جو کوئی حکومت کا سامنا کرتا ہے، وہ خدا کے انتظام کا مخالف ہے اور جو مخالف ہیں ، وہ سزا پائیں گے۔'' (رومیوں: ۱۳: ۱۔۲) کیا عیسائی اس کے مطابق ہر ملک میں دوسروں کے تابع رہے یا کہ انھوں نے آزادی کی جدوجہد بھی کی تھی؟ نیز دوسرے مذاہب والوں کے ملکوں پر قبضہ کرنا بھی ان کے لیے حرام ٹھہرتا ہے، کیا انھوں نے ایسا نہیں کیا؟ کیا ہر عیسائی ہر وقت اور ہر ملک میں اس پر عمل پیرا رہ سکتا ہے اور کیا عملی طور پر کبھی ایسا ہوا ہے؟ یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی حکومت ان کو ختم کرنے کا قانون بنا دے تو یہ چوں چراں نہیں کر سکتے۔ کیا یہ عیسائیوں کو قبول ہے؟ [خاور رشید]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت