عبداللہ بن مسعود کی تفسیر کے راجح ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے دونوں مقامات پر زینت کا مختلف معنی کیا ہے ،جس سے کلام میں تأسیس کاپہلو اجاگر ہوتا ہے،جبکہ عبداللہ بن عباس نے دونوں مقامات پر زینت سے ایک ہی معنی مراد لیا ہے،جس سے کلا م میں تاکید کاپہلو اجاگرہوتاہے۔
یہ قاعدہ معروف ہے کہ اگر کسی کلام میں تأسیس اورتاکید ،دونوںپہلوؤں کے پائے جانے کا امکان ہو تووہاں تأسیس والی صورت اورحیثیت مرادلینا زیادہ بہترہے۔
پھر عبداللہ بن مسعود کی تفسیر ،وہ تفسیر ہے جو نصوصِ شرعیہ اور قواعدِ اصولیہ کے عین مطابق ہے ۔
پھر جملۂ مستثنیٰ [ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا ] میں عبداللہ بن عباس سے مختلف کلام منقول اور وارد ہے،جبکہ عبداللہ بن مسعود سے مختلف باتیں منقول نہیں ہیں،بلکہ ایک ہی کلام وارد ہے۔
(۲) امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عباس کی مذکورہ تفسیر پرتعلیق لگاتے ہوئے فرمایا ہے: اس بات کااحتمال ہے کہ ان کی یہ تفسیر [اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا] کی نہ ہو بلکہ [ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَہُنَّ ] کے متعلق ہو یعنی: جس زینت کو ظاہر کرنے سے روکا ہے وہ چہرہ اورہاتھ ہیں ۔
یاپھر دوسرااحتمال یہی ہے کہ ان کی یہ تفسیر قولہ تعالیٰ [اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا] کے متعلق ہو۔عندالجمہوریہی بات مشہورہے ۔
بہت سے اہلِ علم نے پہلے احتمال کو راجح قرار دیا ہے؛کیونکہ وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول،دوسرے اقوال سے متفق ہے،مثلًا: ان کا ایک قول یہ ہے کہ عورتیں اپنے جلابیب کواپنے سروں سے لٹکاکر،اپنے چہروں کوڈھانپ لیں۔