فهرس الكتاب

الصفحة 95 من 221

ان کادوسرا قول یہ بھی ہے:عورت اپنا جلباب اپنے چہرے تک لٹکائے ۔

یہ اقوال پیچھے ذکر ہوچکے ہیں۔

(۳) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:حقیقتِ امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو طرح کی زینتیں ذکرفرمائی ہیں:ایک زینتِ ظاہرہ،دوسری زینتِ غیر ظاہرہ۔

جوزینتِ ظاہرہ ہے اسے شوہرکے علاوہ دوسروں پر اور اپنے محارم پر ظاہر کرنا جائز قرار دیاہے،پردہ کی آیت نازل ہونے سے قبل عورتیں اپنی اوڑھنیاں اوڑھے بغیر باہرنکلاکرتی تھیں اوراجنبی مرد ان کاچہرہ اورہاتھ دیکھ لیا کرتے تھے ،چنانچہ اس وقت عورت کیلئے اپنا چہرہ اورہاتھ کھولنا جائز تھا،نیز اجنبی مردوں کیلئے دیکھ لینا بھی جائز تھا؛کیونکہ اس وقت عورت کیلئے ان کااظہار مباح تھا ۔

پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان: [يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْہِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِہِنَّ۝۰ۭ ] کے ذریعے پردہ کاحکم دے دیا تو عورتوں کو، مردوں سے پوری طرح چھپادیا اور ڈھانپ دیا۔

شیخ الاسلام مزید فرماتے ہیں:اب جبکہ عورتوںکو اوڑھنیاں اوڑھے رکھنے کا حکم دے دیا گیا ہے،تاکہ وہ پہچانی نہ جاسکیں ،توپھر چہرہ کاڈھانپنا ضروری قرار پائے گا (کیونکہ چہرہ ہی پہچان کاذریعہ ہے) جس سے یہ حقیقت متعین ہوجاتی ہے کہ چہرہ اور ہاتھ،عورت کی وہ زینت ہے جسے مردوں کے سامنے کھلا نہ رکھنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔اب اجنبی مردسوائے عورت کے ظاہری لباس کے،اورکوئی چیز نہیں دیکھ سکتے، یہی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تفسیر کا مقتضیٰ ہے،جبکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر پہلے امر کی مظہر ہے (جوپردے کے حکم کے نزول سے قبل تھا) [1]

علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:پردے کی آیت نازل ہونے سے قبل،

[2] البخاری:۴۸۱۵،مسلم:۱۴۴۵

[3] الفتح الربانی:۱۴/۱۶۰،ابوداؤد:۳۸۲۹،ترمذی:۱۲۶۱،النسائی فی الکبری:۹۲۲۷،ابن ماجہ:۲۵۲۰، امام ترمذی نے اسے ''حسن صحیح ''کہا ہے۔امام حاکم اورذھبی نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ (المستدرک:۲/۲۱۹) ابن حبان:۴۳۲۲۔

[4] نیل الاوطار:۶/۸۰

[5] احمد:۶/۲۶۹،ابوداؤد:۴۱۱۲،الترمذی:۲۷۷۸،النسائی فی الکبری: ۹۲۴۱، صحیح ابن حبان:۵۵۷۶،اس حدیث کی صحت میں اختلاف ہے چنانچہ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث ''حسن صحیح'' ہے، ابن حجر (الفتح:۱/۵۵۰) فرماتے ہیں اس کی سند قوی ہے،نووی ( شرح مسلم:۱۰/۹۷) فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے جنہوںنے اس حدیث پر جرح کی ہے ان کے پاس کوئی معتمد حجت نہیں ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت