فهرس الكتاب

الصفحة 416 من 432

عدی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ایک اور سند سے الزھری سے روایت کیا ہے،مگر اس میں بھی ابو عصمہ ہے اور وہ متہم بالکذب ہے۔''یہ جرح نقل کرنے کے بعد بڑے حوصلے سے مولانا عثمانی فرماتے ہیں:

(( أبوعصمۃ لیس مما اجمع علی ترکہ فقد روی عنہ شعبۃ، وھو لایروی إلاعن ثقۃ عندہ، وقال ابن عدی: ھو مع ضعفہ یکتب حدیثہ، وحدیث مثل ھذا لایحکم علیہ بالوضع بل غایۃ مایقال فیہ أنہ ضعیف ) )الخ [1]

''میں کہتا ہوں ابوعصمہ ان راویوں میں سے نہیں جن کے ترک پر اجماع ہے اس سے شعبہ رحمۃ اللہ علیہ نے روایت لی ہے اور شعبہ رحمۃ اللہ علیہ اسی سے روایت لیتے ہیں، جو ان کے نزدیک ثقہ ہوتا ہے۔ اور ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے: کہ اس کے ضعف کے باوجود اس کی حدیث لکھی جائے ۔ اس جیسے راوی کی روایت پر وضع کا حکم نہیں لگایا جا سکتا زیادہ سے زیادہ اس کے بارے میں جو کہا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کی روایت ضعیف ہے۔''

نوح بن ابی مریم ابو عصمہ کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال کی ضروری تفصیل پہلے ہم عرض کر آئے ہیں۔ اسی طرح یہ بحث بھی گزر چکی ہے کہ امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کیا ثقہ سے ہی روایت کرتے ہیں؟ ان مباحث کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہم یہاں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ روایت روح بن غطیف کی سند سے ہو یا نوح بن ابی مریم کی سند سے، اسے بہر نوع موضوع قرار دیا گیا ہے۔ غالبًا مولانا عثمانی پہلے بزرگ ہیں جو اسے سہارا دینے کی فکر میں ہیں اور کہتے ہیں یہ موضوع نہیں،ضعیف ہے۔

آپ پہلے پڑھ آئے ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے باطل قرار دیا ہے اور امام ابنِ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت